چکوڈی میں سیلاب کی صورتحال ابتر، جمکھنڈی میں حالات بگڑنے کا خدشہ
بنگلورو۔4اگست(ایس او نیوز) مہاراشٹرا میں موسلادھار بارشوں کے نتیجہ میں بلگام ضلع کی کرشنا ، دودھ گنگا اور وید گنگا ندیوں میں طغیانی کے نتیجہ میں چکوڈی اور آس پاس کے تعلقہ جات میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس ضلع کو ریاست کے بقیہ حصہ سے جوڑنے والے آٹھ پل زیر آب آچکے ہیں۔ ضلع کا چکوڈی تعلقہ ریاست کے باقی حصوں سے کٹا ہوا ہے۔مہاراسٹرا سے اس طرف بہنے والی تینوں ندیاں خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اس تعلقہ کے کلگولی ،یادور ، چتراٹا، دتاواڈا سمیت آٹھ مقامات پر پانی بھرجانے اور یہاں کی سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آجانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کل ہوئی بارش میں ہی یہاں کے تین پل ڈوب چکے تھے، رات بھر ہوئی بارش نے مزید پانچ پلوں کو زیر آب کردیا۔ کرشنا ، وید گنگا اور دودھ گنگا کے خطرہ کے نشان سے اوپر بہنے کی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامات کی طرف سے آس پاس کے دیہاتوں میں بسنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے۔ 15 دن قبل ہوئی موسلادھار بارش نے جو تباہی مچائی تھی، اب تک لوگ اس سے ہی سنبھل نہیں پائے کہ ایک بار پھر مہاراشٹرا میں ہوئی بارش نے یہاں سیلاب کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ یہاں کے مکےنوں کو محفوظ مقامات پر قائم گنجی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ چکوڈی ضلع بھر میں سیلاب کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا کے رادھانگری اور راجپور آبی ذخیرہ سے جمکھنڈی تعلقہ کے ہپر گی ڈیم کو 94200کیوسک پانی مسلسل بہایا جارہا ہے جس کی وجہ سے جمکھنڈی تعلقہ میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے احتیاطی تدابیر اپنائی جارہی ہیں۔ یہاں بھی ضرورت پڑنے پر متاثرین کو بسانے کیلئے گنجی مراکز قائم کرنے کی تیاری کی جاچکی ہے۔